نیشنل

الہ آباد ہائی کورٹ میں بلڈوزر کارروائی پر ججوں کی منقسم رائے – معاملہ تیسرے جج کے سپرد

لکھنو:  الہ آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے ملزمین سے منسلک جائیدادوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کو روکنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کے معاملے میں مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ججوں کے الگ الگ فیصلوں کے بعد یہ معاملہ اب چیف جسٹس کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو تیسرے جج کی رائے حاصل کریں گے۔

 

20 جولائی کو جاری اپنے الگ فیصلے میں جسٹس اتل شری دھرن نے کہا کہ کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے فوراً بعد میونسپل قوانین کی خلاف ورزی کا جواز پیش کرتے ہوئے اس کے رہائشی مکان کو منہدم کرنا ناقابل قبول ہے، کیونکہ ایسی کارروائی دراصل انتظامیہ کی جانب سے انتقامی اقدام تصور کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ایف آئی آر درج ہونے کی تاریخ سے دو سال تک ملزم کے مکان کو منہدم کرنے کی کارروائی نہ کی جائے۔

 

دوسری جانب جسٹس سدھارتھ نندن نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس طرح کی مقررہ مدت طے نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ قانون کے نفاذ کو ایک مخصوص مدت کے لیے معطل کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصولی طور پر مانا جاتا ہے کہ حکومت قانون اور فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق ہی کارروائی کرے گی، اور اگر کسی شخص کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

 

اختلافی فیصلے کے بعد بنچ نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ وہ تیسرے جج کے سامنے دو اہم قانونی سوالات رکھیں۔ پہلا یہ کہ کیا آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت عدالت ریاست کو دو سال یا اس جیسی کسی مدت تک اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1973 کے تحت انہدامی کارروائی سے روک سکتی ہے، سوائے چند استثنائی حالات کے۔ دوسرا یہ کہ کیا میونسپل قوانین کے تحت کارروائی شروع کرنے سے ایک سال قبل متعلقہ شخص کو مبینہ خلاف ورزی کے بارے میں ’’نوٹس آف انٹینٹ‘‘ دینا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

فروری میں بھی الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو اس بات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ملزمان سے منسلک جائیدادوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں جاری ہیں۔ اس وقت عدالت نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔

 

عدالت ایک ایسے خاندان کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس کا الزام تھا کہ ان کے ایک رشتہ دار کے خلاف پوکسو ایکٹ اور اتر پردیش غیر قانونی مذہبی تبدیلی قانون کے تحت مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ایک ہجوم نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔

 

جسٹس اتل شری دھرن نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے ایسے کئی معاملات آئے ہیں جن میں ایف آئی آر درج ہونے کے فوراً بعد رہائشی مکان کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا اور بعد میں قانونی تقاضوں کی بظاہر تکمیل دکھاتے ہوئے انہدامی کارروائی کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود ایسی بلڈوزر کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کے معاملے میں ریاست کی جانب سے کی گئی کارروائی عدالت کو اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ انتظامی اختیارات کا انتقامی اور بدنیتی پر مبنی استعمال ہے۔

 

دوسری جانب جسٹس سدھارتھ نندن نے کہا کہ غیر مجاز تعمیرات میں اضافہ آبادی بڑھنے کی ایک وجہ سے ضرور ہوا ہے، لیکن اس بنیاد پر غیر قانونی تعمیرات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں متعلقہ سرکاری افسران کی بھی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔

 

انہوں نے ہدایت دی کہ اگر کسی عمارت کے خلاف تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا جائے تو اسی وقت ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی شروع کی جائے اور اسے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

 

جسٹس نندن نے مزید کہا کہ حکومت کی کارروائی صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اگر اطراف میں بھی اسی نوعیت کی خلاف ورزیاں موجود ہوں تو ان کے خلاف بھی یکساں کارروائی کی جائے۔ اگر کسی ایک شخص کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو متاثرہ فرد عدالت سے رجوع کرتے ہوئے انتظامیہ پر انتقامی کارروائی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا سکتا ہے۔

 

اس مقدمے میں درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل شمس الدین خان، سید احمد فیضان اور ظہیر اصغر نے پیروی کی، جبکہ ریاست اتر پردیش کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ ترویدی عدالت میں پیش ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button