نیشنل

گجرات کی تاریخی جامع مسجد کو جین مندر قرار دینے کا مطالبہ، معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا

احمد آباد: گجرات کے بھروچ میں واقع تاریخی جامع مسجد کو جین مذہبی مقام قرار دینے کی مہم کے درمیان آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے ممکنہ نقصان کے خدشات ظاہر کیے جانے کے کئی ماہ بعد یہ تنازعہ گجرات ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے

 

۔ پانچ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ محفوظ تاریخی عمارت کو جین مندر قرار دیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہاں موجود نوادرات اور فن پاروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور تیرتھنکر ملّی ناتھ کی مورتی کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

 

جسٹس نشا ایم ٹھاکور نے جمعہ کو ہری شنکر جین اور چار دیگر افراد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ مرکزی حکام کو ہدایت دی کہ درخواست گزاروں کے مؤقف پر مکمل معلومات حاصل کرتے ہوئے اپنا جواب داخل کریں۔ عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

 

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ان کا تعلق ’’جین ہندو برادری‘‘ سے ہے اور وہ تیرتھنکر ملّی ناتھ کی پوجا کرتے ہیں۔ ان کے وکیل نے الزام لگایا کہ تاریخی عمارت میں موجود تصاویر، نوادرات اور مجسموں کو نقصان پہنچایا گیا ہے

 

۔ اس ضمن میں عدالت میں مورتی کی تصاویر اور ایک ویڈیو بھی پیش کی گئی۔ درخواست گزاروں نے مورتی کو مزید نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر فوری عبوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت 13اکتوبر کو مقرر کی ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button