پانی کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔
ڈاکٹر محمد ناصر باغبان
اورنگ آباد : ملیہ آرٹس سائنس اینڈ مینجمنٹ سائنس کالج بیڑ کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر محمد عثمان باغبان (پیٹھن، پمپری راجہ) موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” پانی بچاؤ، زندگی بچاؤ” یہ صرف نعرہ نہیں ہے پانی کی حفاظت اپنی ذات سے شروع ہونا چاہیے۔
ریاست مہاراشٹرا کے کئی علاقوں میں خشک سالی کا اعلان ہوچکا ہے۔ اسی طرح قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی کئی علاقے خشک سالی سے متاثر ہے۔ پانی ضائع نہ کریں آج سے ہر شخص کو پانی کا صحیح استعمال شروع کر دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ہر سال اپریل اور مئی کے ایک دو مہینے کی خشک سالی نہیں ہے۔ ابھی اکتوبر ہے۔ اس وقت مانسون کے موسم میں ہمارے مہاراشٹرا کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اس کے بارے میں ہر فرد کو سوچنے اور غور وفکر کرنا بہت ضروری ہے۔ پانی ہے زندگی کی بنیاد، اس کے بغیر سب کچھ برباد۔ ابھی اکتوبر 2026 شروع ہوا ہے۔ اکتوبر سے مئی یہ آٹھ مہینے پانی کے بغیر کیسے گزریں گے۔ خشک سالی صرف کسانوں کے لیے نہیں ہے۔ ہم سب کو اس کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے آج سے ہی پانی کا صحیح استعمال شروع کر دیں۔ پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے
۔ انسان، جانور، چرند پرند کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہے۔ پینے، کھانا پکانے، صفائی، زراعت اور صنعت سمیت ہماری روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر کام میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان پانی کے بغیر زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا۔ صاف پانی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے۔ آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ہمیں پانی کو آلودگی سے بچانا اور اسے ضائع ہونے سے روکنا چاہیے۔ نل کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے لیک ہونے والے نل فوراً درست کروانے چاہئیں۔
گاڑی، کپڑے اور گھر دھوتے وقت بھی پانی کا کم استعمال کرنا چاہیے۔ بارش کے پانی کو جمع کرکے مختلف کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے. ضرورت کے مطابق ہی پانی استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ہم آج پانی کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلوں کے لیے بھی پانی محفوظ رہے گا۔ اس لیے پانی کی قدر کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے.
"پانی نہیں تو خشک سالی ہے۔”
"پانی ہے تو ہر طرف ہریالی ہے۔”
(م ن باغبان)



