تلنگانہ

ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے پر پریشان نہ ہوں – تلنگانہ ہائی کورٹ نے دیا موثر حل

ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے والوں کے لیے ہائی کورٹ کی اہم ہدایت، ایس آئی آر مہم سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ

 

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے والے شہریوں کو اہم راحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جاری خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) مہم کے دوران وہ اپنے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرا سکتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے شہری گھر گھر پہنچنے والے شمار کنندگان (اینومریٹرز) کو اپنی مکمل تفصیلات اور ضروری دستاویزات فراہم کریں۔

 

چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حیدرآباد کے سید قطب الدین مسعود کی درخواست پر سماعت کی، جس میں انہوں نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے جانے کو چیلنج کیا تھا۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نام حذف ہونے کی وجہ سے وہ اور ان کے اہل خانہ 2024 کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ نظر ثانی مہم کے دوران بھی نام بحال نہ ہوئے تو مستقبل میں بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل اویناش دیسائی نے عدالت کو یقین دلایا کہ جاری ایس آئی آر مہم کے تحت ہر اہل شہری کو اپنا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ افراد بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) یا متعلقہ انتخابی حکام کے پاس مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں تو ان کے نام دوبارہ درج کئے جا سکتے ہیں۔

 

دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ چونکہ الیکشن کمیشن کی خصوصی نظر ثانی مہم جاری ہے، اس لیے فی الحال عدالت کی جانب سے کسی اضافی حکم کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ اس مہم سے استفادہ کریں، اور اگر اس کے باوجود ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ ہو تو پہلے متعلقہ انتخابی حکام سے رجوع کریں۔ اگر وہاں بھی مسئلہ حل نہ ہو تو وہ دوبارہ قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

 

ان مشاہدات کے ساتھ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت ختم کر دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button