تلنگانہ

روس میں ملازمت کا جھانسہ، تلنگانہ کے نظام آباد ضلع کے 4 نوجوان مبینہ طور پر جنگی محاذ پر پہنچ گئے

حیدراباد ،:  تلنگانہ کے سابق نظام آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے چار افراد ملازمت کی تلاش میں روس گئے تھے، تاہم افراد خاندان کا الزام ہے کہ انہیں روسی فوج میں بھرتی کرکے یوکرین کے جنگی محاذ پر بھیج دیا گیا۔ چاروں کے خاندانوں نے تلنگانہ حکومت سے مداخلت کرتے ہوئے ان کی بحفاظت واپسی کے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

متاثرہ افراد میں منی پلی کے نلہ گٹہ تانڈہ کے 44 سالہ بھوکیا رویندر، سری کونڈہ کے اوڈڈیرہ کالونی کے 44 سالہ سرشو اشوک، دھرم پلی کے چروو تانڈہ کے 40 سالہ میگاوتھ پرکاش اور کاماریڈی ضلع کے بانسواڑہ کے 43 سالہ محمد افضل خان شامل ہیں۔

 

افراد خاندان کے مطابق چاروں کو روس میں تیل کی صنعت میں ملازمت کا وعدہ کرکے بھیجا گیا تھا، لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود انہیں تنخواہیں نہیں ملیں۔ بعد میں انہیں متبادل کام کا جھانسہ دے کر روسی فوجی کیمپ پہنچایا گیا۔

 

خاندانوں کا الزام ہے کہ روس میں موجود ایجنٹ تلو کرشنا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ فوجی معاون خدمات انجام دیں گے اور جنگ میں حصہ نہیں لینا پڑے گا، تاہم بعد میں انہیں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تربیت دے کر یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقوں میں جنگی محاذ پر تعینات کردیا گیا۔

 

افراد خاندان نے 29 ستمبر کو حیدرآباد میں سی ایم پرواسی پرجاوانی کے ذریعہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے نمائندگی کرتے ہوئے مدد کی اپیل کی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کا این آر آئی ونگ وزارت خارجہ اور ماسکو میں بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کرکے چاروں کی واپسی کے لیے اقدامات کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button