انصاف کی راہ میں چھ سال
تحریر: سید سرفراز احمد
ایک بوڑھا شخص برسوں سے اپنے بیٹے کے قاتل کو سزا ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر پیشی پر وہ امید لے کر عدالت پہنچتا، مگر تاریخ پر تاریخ ملتی رہی۔ ایک دن جج نے پوچھا بابا! تم ہر بار اتنی دور سے کیوں آتے ہو؟ بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا، صاحب! میں انصاف لینے نہیں آتا میں صرف یہ دیکھنے آتا ہوں کہ انصاف ابھی زندہ ہے یا نہیں! کمرۂ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بوڑھا دروازے سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی۔ وہ تصویر اپنے بیٹے کی تھی۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے تصویر کو دیکھا اور کہا بیٹا! عدالت میں تمہارا مقدمہ تو چل رہا ہے۔ مگر تمہاری ماں کی عمر ختم ہوگئی اور انصاف ابھی بھی تاریخ پر ہے۔ ایسا ہی حال بلکہ کچھ اس سے بھی بدحال عمر خالد اور شرجیل امام کا ہورہا ہے۔
کیوں کہ کسی بھی انسان کی زندگی میں چھ سال معمولی مدت نہیں ہوتی۔ یہ ایک بچے کے جوان ہونے ایک طالب علم کے تعلیم مکمل کرنے، ایک خاندان کی زندگی کے کئی اہم مرحلوں کے گزر جانے اور ایک انسان کی زندگی کے ایک بڑے حصے کے بیت جانے کا عرصہ ہے۔ لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کے لیے یہ چھ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے ہیں۔ بلکہ ابھی بھی وہ جیل کی صعوبتوں کو برداشت کررہے ہیں۔ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں اگست اور ستمبر 2020 سے حراست میں ہیں۔ 30 ستمبر 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ان کی ضمانت مسترد کردی۔
یہاں ایک بنیادی قانونی حقیقت کو ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری ہے۔ کہ عمر خالد اور شرجیل امام پر جو سنگین الزامات عائد ہیں۔ ان الزامات کا حتمی فیصلہ ابھی ٹرائل کے ذریعے نہیں ہوا۔ اس لیے انہیں قانونی طور مجرم ہرگز بھی نہیں کہا جا سکتا۔ استغاثہ انہیں مبینہ سازش کے اہم کرداروں کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دفاع ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔ آج کی عدالتی کارروائی بھی جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں بلکہ ضمانت کا معاملہ تھا۔
اب آتے ہیں صل سوال کی طرف کہ انصاف کی راہ اتنی طویل کیوں ہوگئی؟ یہ سوال انصاف کے مندروں کو جھنجھوڑنے والا ہے۔ لیکن کسی پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ جب کہ ہندوستانی قانونی نظام میں ضمانت کا فیصلہ کسی شخص کو بے گناہ قرار دینا نہیں ہوتا، اسی طرح ضمانت کا مسترد ہونا بھی جرم ثابت ہوجانے کے مترادف بھی نہیں۔ خاص طور پر یو اے پی اے جیسے سخت قانون میں ضمانت کے لیے قانونی رکاوٹیں عام فوجداری قوانین سے زیادہ سخت ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا آئینی اصول بھی سامنے آتا ہے۔ مقدمے کی غیر معمولی تاخیر اور ذاتی آزادی کا حق۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 میں دی گئی شخصی آزادی اور فوری ٹرائل کے حق سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے؟
دہلی ہائی کورٹ نے 30 ستمبر کو شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت کیوں نہیں دی؟عدالت نے بنیادی طور پر یہ کہا کہ جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں مخصوص شرائط مقرر کی تھیں۔ جنہیں ہائی کورٹ خود تبدیل نہیں کرسکتی۔ ہائی کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ مقدمہ ختم ہوگیا یا ملزمان مجرم ثابت ہوگئے۔ دراصل سپریم کورٹ نے جنوری میں دونوں کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔ تاہم انہیں دوبارہ ضمانت کی درخواست دینے کی گنجائش اس وقت دی تھی جب محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہوجائے۔ یا ایک سال گزر جائے۔ دہلی ہائی کورٹ نے آج کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی اس مخصوص ہدایت میں ترمیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ قانونی منطق اپنی جگہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر چھ سال گزرنے کے باوجود ٹرائل مکمل طور پر شروع نہیں ہوسکا تو اس تاخیر کی قیمت کون ادا کرے گا؟ یہ سوال صرف عمر خالد اور شرجیل امام کا نہیں، ہندوستانی فوجداری نظام کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کیا انصاف کی مسند پر بیٹھے منصف کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ بناء ٹرائل کے چھ سال قید کی زندگی گذارنا خود اپنے آپ میں ایک طویل سزا مکمل ہوچکی ہے۔ جب کہ ملزمان کا جرم ابھی ثابت بھی نہ ہوسکا۔ تو کیا ملزمان سے یہ نا انصافی نہیں ہے؟
اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے جنوری 2026 میں پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دی۔ جب کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں ملی۔ عدالت نے دونوں کے مبینہ کردار کو دوسرے ملزمان سے مختلف سمجھا۔ پولیس نے بھی ہائی کورٹ میں دونوں کو مبینہ "ماسٹر مائنڈز” قرار دیتے ہوئے ان کی مسلسل حراست کا دفاع کیا۔ یہ پولیس کا مؤقف ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔
دوسری طرف بعض دوسرے ملزمان کو بعد میں عبوری ضمانت ملنے کی بنیاد پر عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے برابری کا مؤقف بھی پیش کیا گیا۔ تاہم ہائی کورٹ نے کہا کہ ان ملزمان کے مبینہ کردار مختلف تھے۔ اس لیے محض ضمانت ملنے کی بنیاد پر برابری کا اصول لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
ایک ہی مقدمے میں فیصلوں میں تقسیم کی جارہی ہے۔ عدلیہ پولیس کے مؤقف کو تقویت پہنچانے کا کام کررہی ہے۔ الزام کی سنگینی اور مقدمے کی رفتار دونوں کو ایک ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔ کیا چھ سالہ حراست بذاتِ خود انصاف کا سوال نہیں؟ آرٹیکل 21 ہر شخص کو شخصی آزادی کا حق دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں میں تیز رفتار ٹرائل کو بھی اسی آئینی تحفظ سے جوڑا گیا ہے۔ لیکن یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) ضمانت کے لیے بہت سخت معیار مقرر کرتی ہے۔ چنانچہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف قانون ریاست کو دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے معاملے میں سخت اختیار دیتا ہے۔ دوسری طرف آئین ریاست سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک مقدمہ مکمل کیے بغیر قید میں نہ رکھا جائے۔ قانون کی اسی کش مکش میں ملزمان مجرم کی طرح چھ سال سے قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ قانونی کش مکش میں آخر کتنے سال تک ایسے ہی الٹ پلٹ ہوتے رہے گی؟ کیوں کہ ملزمان کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ بلکہ چھ سال گذر چکے ہیں۔ آخر عدلیہ قانونی کش مکش سے باہر کب نکلے گی؟
ریاست کا کام صرف جرم کرنے والے کو سزا دینا نہیں۔ بلکہ بے گناہ کو بھی غیر ضروری طور پر طویل عرصے تک قید سے بچانا ہے۔ اگر استغاثہ کے پاس مضبوط شواہد ہیں تو مقدمہ تیزی سے چلنا چاہیے۔ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے چاہیئے۔ دفاع کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور عدالت کو حتمی فیصلہ دینا چاہیے۔ اور اگر مقدمہ چلنے میں ہی برسوں لگ جائیں تو سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ زیرِ سماعت قید کہیں عملی طور پر سزا میں تو تبدیل نہیں ہورہی؟
اس پورے معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عمر خالد اور شرجیل امام دونوں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور دوسرے سیاسی معاملات پر اپنے خیالات کے باعث عوامی سطح پر معروف ہوئے۔ 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں ان پر یو اے پی اے کے تحت سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ دوسرا سیاسی پہلو یہ ہے کہ جس پولیس کو غیر جانب دارانہ طور پر قانونی دائرے میں کام کرنا چاہیئے تھا وہی پولیس نے سیاسی دباؤ کے ماتحت کام کرتے ہوۓ ایک شخص کی جمہوری آزادی پر قدغن لگاکر اپنی طاقت کے زور پر جیل تک پہنچادیا۔ لیکن جب معاملہ عدلیہ تک پہنچ گیا تو عدلیہ کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ الزام کتنا سنگین ہے۔ اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انصاف کا عمل خود کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
چھ سال بعد بھی سوال وہیں ہے۔ اگر ایک شخص تقریباً چھ سال سے جیل میں ہے اور اس کے خلاف مقدمہ ابھی اپنے حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا تو انصاف کی رفتار کو معمول کی رفتار کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کسی ملزم کو رہا کرنا یا ضمانت دینا عدالت کا اختیار ہے۔ لیکن مقدمہ تیزی سے مکمل کرنا بھی نظامِ انصاف کی ذمہ داری ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام بے قصور ہیں یا قصوروار اس کا فیصلہ عدالت کو شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے۔ لیکن ایک اصول اس فیصلے سے پہلے ہی واضح ہے وہ یہ کہ ملزم کو سزا صرف اس وقت دی جاسکتی ہے جب جرم ثابت ہوجائے۔ زیرِ سماعت قید کو غیر معینہ مدت تک سزا کا متبادل آخر کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ یہ سوال صرف دو افراد کی ضمانت کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں آئینی آزادی، سخت انسدادِ دہشت گردی قوانین اور فوری انصاف کے درمیان توازن کہاں قائم ہوگا؟
عدلیہ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ انصاف میں اگر تاخیر ہوگی تو اس سے جمہوری اُصولوں کو نقصان پہنچے گا۔ وہ کیسے؟ شرجیل امام اور عمر خالد نہ کیئے گئے گناہوں کی سزا چھ سال مکمل کرچکے ہیں تو اس سزا کو دیکھ کر کون وہ عقل مند ہوگا جو سڑک پر اتر کر اپنا حق مانگنے کی ہمت کرے گا ؟ کیا نا انصافی کا خوف ایک فرد کی شخصی آزادی کو نہیں چھین رہا ہے؟ کیا انصاف میں تاخیر جمہوریت کو کھوکھلا نہیں کر رہی ہے؟ پھر سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ جمہوریت کو کمزور کون کر رہا ہے؟ اس جواب کو ہم قارئین کے حوالے کرتے ہیں۔



